اولاد کی حقیقت

دین اسلام میں قرض کی ادائیگی کا حکم

دیکھیں ایک علاقے میں ایک شخص رہتا تھا اس کے تین بیٹے تھے جس طرح ہر شخص اس جہان فانی سے کوچ کرتا ہے اسی طرح اس شخص کا بھی وقت ا چکا تھا

جب وہ انتقال کر گیا تو ایک شخص اس کی چارپائی کو پکڑ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں تب تک اس شخص کا جنازہ نہیں اٹھنے دوں گا جب تک مجھے میرے پیسے واپس نہیں مل جاتے

تو دین اسلام ہمیں کہتا ہے اگر کسی پر کوئی قرض ہے تو اس کا نماز جنازہ پڑھنے سے پہلے وہ قرض اس کے احباب اتار دے

تو اسی صورت میں چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے تینوں بیٹے مل کر اپنے باپ کا قرض اتار دیتے جب پوچھا گیا کہ ان کے والد پر کتنا قرض ہے تو وہ شخص بولا اس شخص پر میرا 45 لاکھ کا قرض ہے جب تک مجھے میرے پیسے ادا نہیں کرتے میں اس کا جنازہ نہیں اٹھانے دوں گا

اب بیٹے کہنے لگے کہ ہم کہاں سے لائیں اتنے پیسے ہمارے پاس تو نہیں ہے

اور باپ کا جنازہ وہیں پر پڑا رہ گیا جب اس بات کی خبر اس صاحب جنازہ کی صاحبزادی کو ہوئی تو اس نے اپنے زیور اور اپنی تمام جمع پونجی اس شخص کو بھجوا دی کہ اپ اللہ کے واسطے میرے والد کا جنازہ ادا کرنے دیں

تو جب اس شخص کو اس بات کا علم ہوا تو وہ رونے لگ پڑا اور وہ کہنے لگا

لوگو ......

میں نے اس شخص سے پیسے لینے نہیں اس کو 45 لاکھ دینے ہیں میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کا اصل حقدار کون ہے تو اس کی بیٹی نے یہ ثابت کر دیا کہ یقینا وہی ان پیسوں کی حقدار ہے جو پیسے میں نے ان کے والد کو ادا کرنے تھے

تازہ ترین مضامین